عرفانِ شریعت مارچ 2026

عرفان شریعت (مارچ 2026)

علامہ سعید احمد اشرفی

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا عورتوں کے لیے اپنے ہاتھ اور پاؤں کے بالوں کو کاٹنا جائز ہے؟

جواب: عورت اپنے ہاتھ اور پاؤں کے بال کاٹ سکتی ہے، شریعت میں اس کی ممانعت نہیں۔ البتہ اگر یہ کام کسی دوسری عورت سے کروایا جائے تو پردے کا خیال رکھنا ضروری ہے یعنی ہاتھ اور گھٹنوں سے نیچے کے بال تو صاف کروانا درست ہے لیکن گھٹنوں سے اوپر کے بال کاٹنے کیلئے اس حصے کو دوسری عورت کے سامنے کھولنا جائز نہیں، کیونکہ ایک عورت کا دوسری عورت کے سامنے بھی بغیر شرعی ضرورت کے اپنے ناف سے گھٹنے تک کا حصہ کھولنا جائز نہیں۔

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہا رشریعت میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’ ہاتھ، پاؤں، پیٹ پر سے بال دور کرسکتے ہیں‘‘۔(بہار شریعت جلد 3 حصہ 16)

سوال: شیطان کیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی یا دوسرے نبی یا رسول کی شکل میں خواب میں آ سکتا ہے یا نہیں؟

جواب: خواب میں یا بیداری میں، کسی حالت میں، شیطان کسی بھی نبی اورکسی بھی فرشتےعلیہم الصلوۃ والسلام کی صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ صحیح البخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ

”من رآني في المنام فسيراني في اليقظة، ولا يتمثل الشيطان بي“

ترجمہ: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، وہ عنقریب مجھے بیداری میں دیکھے گا، اور شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔“ (صحیح البخاری، صفحہ 1271، حدیث: 6993، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مذکورہ حدیث پاک کے تحت عمدۃ القاری میں ہے

کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی نے ہمارے نبی مکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کو یہ خصوصیت عطا فرمائی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی خواب میں زیارت بالکل صحیح اور سچی ہے، اور شیطان کو اس بات سے روک دیا ہے کہ وہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کا مبارک سراپا اختیار کر سکے، تا کہ وہ خبیث کسی کے خواب میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی زبان حق ترجمان پر جھوٹ نہ باندھ سکے۔ یہ معاملہ اسی طرح ہے جیسے اللہ تعالی نے معجزے کے ذریعے انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام سے خارق عادت امور ظاہر فرمائے، اور جیسے اللہ تعالی نے یہ محال فرمایا کہ شیطان حالت بیداری میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی صورت اختیار کر سکے۔ محی السنۃ، امام نووی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کا خواب میں دیدار حق ہے، اور شیطان، آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی مبارک شکل میں ظاہر نہیں ہو سکتا، یونہی تمام انبیا ئے کرام و ملائکہ عظام علیہم الصلاۃ و السلام کامعاملہ ہے، کہ وہ ان کی بھی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، جلد 2، صفحہ 155، 156، مطبوعہ: بيروت)

سوال:یہ کہنا کہ “شریعت کو گولی مارو” کیسا ہے؟

جواب: ذکورہ جملے میں شریعت مطہرہ کی سخت توہین ہے، اور شریعت مطہرہ کی ادنی توہین یقینا قطعا کفر و ارتداد ہے، جس وجہ سے ایسا کہنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا، اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی ہے، لہذا ایسا کہنے والے پر فرض ہے، کہ وہ فوراً توبہ و استغفار، اور تجدید ایمان کرے، اور اگر سابقہ بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے، تواس کی رضامندی کے ساتھ، نئے مہرکے ساتھ، اس سے دوبارہ نکاح  کرے۔

فتاوی رضویہ میں ہے: ”مطلقًا علمائے دین یا کسی عالم دین کی ان کے عالم ہونے کے سبب برا کہنا، یا شریعت مطہرہ کی ادنٰی توہین کرنا، یہ تو یقینا قطعًا کفرو ارتداد ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 570، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ ہندہ نے غصے میں آکر کہا: ”چُولہے میں جائے ایسی شریعت” یا ”مَری پڑے ایسی شریعت پر” کیا فقرہ مذکورہ بالا سے ہندہ مرتد ہوگئی اور اسلام سے خارج ہوئی، ملخصا؟

تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: “ہندہ نے پہلا فقرہ کہا ہو خواہ دوسرا، ہر طرح اس کا ایمان جاتا رہا کہ اس نے شرع مطہر کی توہین کی۔”                       (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 262، 263، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سوال: کیا مزار پر تعظیم کی نیت سے سجدہ کیا جا سکتا ہے؟

جواب: ہماری شریعت میں اللہ پاک کے علاوہ کسی کو بھی (خواہ وہ مزار ہو یا انسان وغیرہ) سجدۂ تعظیمی کرنا سخت ناجائز و حرام ہے، اور ایسا کرنے والا سخت گناہ گار اور عذاب نار کا حق دار ہے، لیکن فقط تعظیم کی نیت سے سجدہ کرنا کفر نہیں ہے، ہاں! عبادت کی نیت سے ہو، تو کفر ہے۔

امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: مزارات کو سجدہ یا اُن کے سامنے زمین چومنا حرام اور حد رکوع تک جھکنا ممنوع۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ 474، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں: سجدہ تحیت یعنی ملاقات کے وقت بطورِ اکرام کسی کو سجدہ کرنا حرام ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 473، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

سوال: لڑائی کے دوران ایک شخص دوسرے سے کہے کہ تجھ سے خدا بھی نہیں جیت سکتا تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: معاذ اللہ، ایسا کہنا انتہائی غلط بات بلکہ کفر ہے کہ اس کا مطلب ہوا کہ معاذ اللہ، خدا کمزور اور مغلوب ہے، ایسا کہنے والے پر توبہ و تجدیدِ ایمان لازم ہے۔

بہار شریعت میں ہے: کسی زَبان دراز آدمی سے یہ کہنا کہ خدا عَزَّوَجَلَّ تمہاری زَبان کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا میں کس طرح کروں یہ کفر ہے۔ یونہی ایک نے دوسرے سے کہا: اپنی عورت کوقابو میں نہیں رکھتا؟ اُس نے کہا: عورتوں پر خدا کو تو قدرت ہے نہیں مجھ کو کہاں سے ہوگی۔ (یہ بھی کفر ہے۔) (بہار شریعت، ج 2، ص 179، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

سوال:یہ کہنا کہ “خدا بھی نیچے آجائے تو بھی میں یہ کام نہیں کروں گا” کیسا ہے؟

جواب:  جس شخص نے یہ جملے کہے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا، اگر شادی شدہ تھا، تو اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی، اس پر لازم ہے کہ فوراً اپنے ان دونوں جملوں سے توبہ کرے، اور تجدید ایمان کرے، اور بیوی کو نکاح میں لانا چاہتا ہے، تو اس کی مرضی سے نئے مہرکے ساتھ دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے

”إذا قال: لو أمرني الله بكذا لم أفعل فقد كفر كذا في الكافی“

ترجمہ: جب کوئی کہے کہ اگر اللہ بھی مجھے ایسا حکم دے تو میں نہیں کروں گا تو وہ کافر ہو جائے گا، ایسا ہی کافی میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 2، صفحہ 258، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی شارح بخاری میں ایک شخص کے متعلق سوال ہوا جس نے یہ جملہ کہا تھا کہ ”اگر خدا اتر کر آوے تب بھی میں (مکان) نہیں بننے دوں گا“ پھر اس سے اس کے بیٹے نے کہا کہ کیا آپ خدا سے بڑھ کرہیں؟ تو اس نے کہا کہ ”ہاں میں خدا سے بڑھ کر ہوں۔“

اس کے جواب میں مفتی شریف الحق امجدی صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بکر کا باپ زید کافر و مرتد ہوگیا، اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی، اس کے تمام اعمالِ حسنہ اکارت ہوگئے، اس نے دو کفر بکا، بلکہ تین۔ ”خدا اتر کر آئے جب بھی نہیں بننے دوں گا“ اس میں دو کفر ہیں، اور ”میں خدا سے بڑھ کر ہوں“ تیسرا کفر۔۔۔ اس پر فرض ہے کہ ان کفریات سے توبہ کرے، کلمہ پڑھ کر پھرسے مسلمان ہو، بیوی کو رکھنا چاہے تو پھر سے نکاح کرے۔“ (فتاوی شارح بخاری، جلد 1، صفحہ 165، مکتبہ برکات المدینہ، کراچی)