اپنے تیروں کی نوکیں تھام لو

انت ایضا صحابیہ قسط 10

اپنے تیروں کی نوکیں تھام لو!

انت_ایضاصحابیہ 10
مترجم:علامہ سعید احمد اشرفی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے تیروں کی نوکیں تھام لو!
تم بھی تو ایک صحابیہ ہو!
جسے اس مسجد میں آنا پسند ہے جہاں نبی ﷺ کی موجودگی کا احساس ہو، بھلا کون نہیں چاہے گا کہ وہ وہاں ہو جہاں اس کا محبوب تھا؟!
اور مسجد میں ایک شخص گزرا جس کے پاس تیر تھے،
تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: “ان کی نوکوں کو پکڑ لو!”
اور ایک دن فرمایا: “جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں،
تو اسے چاہیے کہ ان کی نوکوں کو تھام لے
اور انہیں اپنی مٹھی میں مضبوطی سے پکڑ لے تاکہ مسلمانوں میں سے کسی کو اس سے کوئی نقصان نہ پہنچے!”
اے صحابیہ!
تمہارے نبی اور تمہارے محبوب ﷺ اس بات کے کس قدر حریص تھے کہ کسی بھی مسلمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے،
چاہے وہ تکلیف نادانستہ طور پر ہی کیوں نہ ہو!
اسی لیے آپ ﷺ نے اس شخص کو جو مسجد سے گزرا، اپنے تیروں کی نوکیں پکڑنے کا حکم دیا۔
لیکن یاد رکھو، نوک صرف نیزوں اور تیروں کی ہی نہیں ہوتی،
زبان کی بھی ایک چبھنے والی نوک ہوتی ہے!
اور یہ لوگوں کے دلوں میں ایسا گہرا زخم لگا سکتی ہے،
جو نیزے اور تیر بھی نہیں لگا سکتے!
کیونکہ نیزوں اور تیروں کے زخم تو جلدی بھر جاتے ہیں،
مگر زبان کے زخم کبھی نہیں بھرتے!
وہ دل میں ہمیشہ درد بن کر رِستے رہتے ہیں،
اس لیے اپنے الفاظ کے تیروں کو قابو میں رکھو!
اے صحابیہ!
ہمارے دور میں لوگ جس بدترین آزمائش میں مبتلا ہیں،
وہ یہ ہے کہ وہ سچائی اور بدتمیزی کے درمیان فرق بھول گئے ہیں!
سچی اور کھری بات تو یہ ہے کہ جب تمہاری کوئی سہیلی غلطی کرے،
تو تم اس سے بے پناہ محبت کے ساتھ بات کرو اور اسے اس کی غلطی کا احساس دلاؤ،
تاکہ وہ غرور میں آکر مزید گناہ نہ کرے!
سچائی یہ ہے کہ تم اس عزت کا دفاع کرو جسے پامال کیا جا رہا ہو،
اور اس کی طرف سے بولو جس کی غیر موجودگی میں غیبت کی جا رہی ہو،
سچائی تو یہ ہے کہ تم نصیحت کو نرمی اور شفقت کی طشتری میں سجا کر پیش کرو،
جو خالص اللہ کے لیے اور اللہ کی رضا کے لیے ہو۔
اس کے علاوہ سب کچھ بدتمیزی اور گستاخی ہے!
ہاں، وہ بدتمیزی ہے، چاہے وہ سچ ہی کیوں نہ ہو!
جب تم کسی بدشکل کو کہتی ہو کہ وہ بدشکل ہے،
تو یہ بدتمیزی ہے، چاہے وہ سچ ہی کیوں نہ ہو!
اور جب تم کسی ایسی عورت کو جو اپنے لباس پر خوش ہو، یہ کہتی ہو
کہ یہ لباس مزاحیہ ہے اور فیشن کے خلاف ہے، تو یہ بدتمیزی ہے، چاہے یہ سچ ہی کیوں نہ ہو!
اور جب تم کسی کے انداز پر تنقید کر کے لوگوں کے سامنے اس کا دل دکھاتی ہو،
تو یہ بدتمیزی ہے، چاہے اس کا انداز کتنا ہی عجیب کیوں نہ ہو!
ہر سچ بولنے کے لیے نہیں ہوتا!
اور پھر، تم سے کس نے کہا ہے کہ لوگوں کو ان کی حقیقتیں بتانا تمہاری ذمہ داری ہے؟
دل جوئی اور کسی کا دل رکھنا اس سچ سے کہیں زیادہ اہم ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو!
اور کسی کی تعریف و خوش اخلاقی اس سچ سے زیادہ اہم ہے، اگر اس میں کوئی حرام کام شامل نہ ہو!
تو خدارا، کسی کے لیے اذیت کا باعث نہ بنو!
اے صحابیہ!
تمہارے منہ سے نکلی ہوئی کوئی ایک بات جس کے نتائج کا تمہیں اندازہ بھی نہ ہو،
اور نہ ہی سننے والے کے دل پر اس کے گہرے اثر کا پتا ہو،
تم تو اسے کہہ کر بھول جاؤ گی، مگر وہ اس کی وجہ سے رات بھر سو نہیں پائے گا!
لوگوں کے گھروں میں اندھی بن کر داخل ہو اور گونگی بن کر نکلو!
تمہیں اس سے کیا غرض کہ وہ اپنے شوہر کی غربت اور سخت مزاجی کے باوجود کیسے صبر کر رہی ہے،
تم کیوں بنے بنائے گھر اجاڑتی ہو اور محبت کرنے والوں کے درمیان دوریاں پیدا کرتی ہو!
لوگ تو بڑی مشکل سے اپنی تلخ حقیقتوں کو برداشت کر رہے ہیں،
اور ہر انسان کے اندر اتنے غم ہیں جو اس کے لیے کافی ہیں،
تو تم اور یہ دنیا مل کر لوگوں پر بوجھ نہ بنو!
اگر تمہارے پاس کہنے کو کوئی میٹھی بات ہے تو اللہ تم پر برکت نازل فرمائے،
اور اگر تمہارے پاس کوئی اچھی بات نہیں تو اللہ تمہاری خاموشی میں برکت ڈالے!
تمہیں اس بات سے کیا غرض کہ
تمہاری پڑوسن ہر تقریب کے لیے نیا جوڑا کیوں نہیں خریدتی،
تمہیں کس نے کہا کہ وہ یہ خواہش نہیں رکھتی!
مگر گھروں کے اپنے راز ہوتے ہیں، اور اللہ ہی لوگوں کا مددگار ہے۔
تمہیں اس بات کی کرید کیوں ہے کہ تمہاری سہیلی
اپنے گھر کے پرانے سامان پر کیوں صبر کیے بیٹھی ہے اور اسے بدلتی کیوں نہیں!
کیا ہر کوئی وہ سب کر سکتا ہے جو تم کر سکتی ہو؟
کیا سب لوگوں کے پاس تمہارے جیسے وسائل اور دولت ہے؟
لوگ محرومیوں سے بہت اچھی طرح واقف ہیں!
اور کوئی انسان ایسا نہیں جو اپنی کھوئی ہوئی چیزوں اور اپنی بے بسی پر کڑھتا نہ ہو،
تو پھر تم کیوں لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکتی ہو؟!
اے صحابیہ!
تمہارے محبوب ﷺ نے فرمایا: “جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے،
اسے چاہیے کہ وہ بھلائی کی بات کہے یا پھر خاموش رہے!”
بس یہی وہ مختصر سا فارمولا ہے:
یا تو خوبصورت بات کہو، یا پھر خوبصورت خاموشی اختیار کرو!
گفتگو ایک خوبصورتی اور سلیقہ ہے!
خوبصورت لباس سے بھی زیادہ حسین،
میک اپ کے سامان سے بھی زیادہ دلکش،
عطر اور زیورات سے بھی کہیں بڑھ کر دلنشین،
تو پھر اپنے اندر یہ خوبصورتی پیدا کرو!
بات کا مفہوم جو بھی ہو، ہمیشہ بہترین اور خوبصورت الفاظ کا انتخاب کرو،
بری باتیں بھی اچھے انداز میں کہی جا سکتی ہیں،
بالکل اسی طرح جیسے اچھی باتیں برے انداز سے کہنے پر اپنا حسن کھو دیتی ہیں!
ایک بادشاہ نے خواب میں دیکھا
کہ اس کے سارے دانت اس کے سامنے ٹوٹ کر گر گئے ہیں اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے،
اس نے اپنے خادموں سے کہا کہ کسی ایسے شخص کو بلائیں جو اس خواب کی تعبیر بتا سکے،
جب تعبیر بتانے والے نے بادشاہ سے خواب سنا،
تو اس نے کہا: “آپ کے تمام اہل و عیال آپ کے سامنے ایک ایک کر کے مر جائیں گے!”
بادشاہ تعبیر بتانے والے کی اس بات پر شدید غصہ ہوا اور اسے قید کرنے کا حکم دیا،
پھر اپنے خادموں سے کہا کہ کسی اور تعبیر بتانے والے کو لایا جائے!
جب دوسرا آیا اور اس نے بادشاہ کا خواب سنا،
تو اس نے بھی یہی کہا: “آپ کے تمام اہل و عیال آپ کے سامنے ایک ایک کر کے مر جائیں گے،”
بادشاہ پھر غضب ناک ہوا اور دوسرے کو بھی قید کرنے کا حکم دے دیا!
پھر اس نے اپنے خادموں سے ایک نئے تعبیر بتانے والے کو لانے کا کہا،
اور جب تیسرا شخص آیا اور بادشاہ کا خواب سنا،
تو اس نے کہا: “واہ، کیا ہی خوبصورت خواب ہے جہاں پناہ!
آپ اپنے خاندان میں سب سے زیادہ لمبی عمر پائیں گے!”
بادشاہ اس تعبیر پر بہت خوش ہوا اور اس شخص کو انعام دینے کا حکم دیا،
حالانکہ تعبیر تو وہی تھی، اس میں کچھ بھی نیا نہیں تھا،
ظاہر ہے جب بادشاہ ہی اپنے خاندان میں سب سے لمبی عمر پانے والا ہے،
تو اس کا مطلب یہی ہے کہ باقی سب اس سے پہلے انتقال کر جائیں گے،
تعبیر نہیں بدلی تھی، بس بات کہنے کا انداز بدل گیا تھا!
اس لیے، اپنی گفتگو کا انداز خوبصورت چنو!

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *