مترجم:علامہ سعید احمد اشرفی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرعون کے محل میں!
کیا تم بھی ایک صحابیہ ہو!
تمہارے اندر پچھلی امتوں کے حالات جاننے کا ایک زبردست شوق ہے،
تاکہ تم اس سے اپنے دل کو مضبوط کر سکو،
اپنی روح کو تسلی دے سکو،
اور تمہیں یہ پختہ یقین ہو جائے کہ اللہ کے ہاں دین صرف ایک ہی ہے،
جس کی ابتدا آدم علیہ السلام سے ہوئی اور اختتام محمد ﷺ پر ہوا!
شریعتیں بدلتی رہیں اور عبادتوں کے طریقے مختلف ہوتے رہے،
لیکن اصل دین ایک ہی ہے جس کا عنوان کبھی نہیں بدلتا اور وہ ہے تمہارے رب کا یہ فرمان:
“بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔”
اور دیکھو، یہ تمہارے نبی اور تمہارے محبوب ﷺ ہیں جنہوں نے تمہارے لیے اپنی میٹھی آواز کی زین تیار کی ہے،
اور اب تم اس کلام کی پشت پر سوار ہو چکی ہو،
اور تم ایک ایسے قدیم ماضی کی طرف لوٹ رہی ہو جسے تم نے جیا نہیں،
اور ایک ایسے غیب کا مشاہدہ کر رہی ہو جسے تم نے خود دیکھا نہیں!
تمہارے محبوب، تمہارے چنے ہوئے اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک (ﷺ) تم سے فرما رہے ہیں:
ابراہیم علیہ السلام نے زندگی میں صرف تین بار ایسی بات کہی جو بظاہر حقیقت کے خلاف تھی (تین جھوٹ)،
جن میں سے دو اللہ کی ذات کے لیے تھیں؛
ایک ان کا یہ فرمان: “میں بیمار ہوں”۔
اور دوسرا ان کا یہ فرمان: “بلکہ یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے کیا ہے”۔
اور تیسرا واقعہ ایک دن کا ہے جب وہ اور (ان کی زوجہ) سارہ سفر پر تھے،
کہ وہ ایک ظالم جابر بادشاہ کے علاقے سے گزرے۔
اس بادشاہ کو بتایا گیا: یہاں ایک شخص آیا ہے جس کے ساتھ دنیا کی خوبصورت ترین عورت ہے۔
چنانچہ اس نے ابراہیم علیہ السلام کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا: یہ کون ہے؟
انہوں نے فرمایا: یہ میری بہن ہے!
پھر وہ سارہ کے پاس آئے اور فرمایا: اے سارہ، اس روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی دوسرا مومن نہیں ہے،
اور اس شخص نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اسے بتا دیا کہ تم میری بہن ہو،
اس لیے تم (اس کے سامنے) مجھے جھوٹا نہ کرنا!
پھر بادشاہ نے ان دونوں کو بلوا بھیجا، اور جب وہ (سارہ کے) پاس آیا تو جیسے ہی اس نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا، وہ وہیں جکڑا گیا!
اس نے کہا: اللہ سے دعا کرو کہ وہ میرا ہاتھ چھوڑ دے، میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔
انہوں نے دعا کی، تو وہ چھوٹ گیا۔
پھر اس نے دوسری بار ہاتھ بڑھایا، تو پہلے سے بھی زیادہ سخت جکڑا گیا،
اس نے اپنے خادموں کو پکارا اور کہا:
تم میرے پاس کسی انسان کو نہیں لائے، بلکہ تم تو میرے پاس کسی شیطان کو لے آئے ہو!
پھر سارہ واپس ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں تو وہ نماز پڑھ رہے تھے، سارہ نے کہا:
اللہ نے اس بدکار کے ہاتھ کو روک دیا، اور اس نے ہاجرہ کو میری خدمت کے لیے دے دیا۔
اور اے صحابیہ، اس قصے کا خلاصہ یہ ہے:
جب ابراہیم علیہ السلام کو ان کی قوم نے عراق سے نکال دیا، تو وہ اپنی زوجہ سارہ کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔
سارہ انسانی تاریخ کی خوبصورت ترین خاتون تھیں، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کا حسن ان کی دادی (سارہ) کے اسی خون کا اثر تھا!
اور اس وقت کا فرعون عورتوں کا رسیا تھا، وہ جس خوبصورت عورت کو دیکھتا، اسے اپنے لیے حاصل کر لیتا۔
اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ جب بھی وہ کسی خوبصورت عورت کو دیکھیں تو اسے اطلاع دیں۔
چنانچہ سپاہیوں نے اسے سارہ کے حسن و جمال کے بارے میں بتایا۔
فرعون نے ابراہیم علیہ السلام کو بلوا بھیجا،
جب وہ حاضر ہوئے تو اس نے سارہ کے بارے میں پوچھا،
ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: وہ میری بہن ہے!
کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے ‘زوجہ’ کہا، تو فرعون انہیں قتل کر دے گا اور سارہ کو چھین لے گا!
اور جب ابراہیم اور سارہ فرعون کے محل میں پہنچے،
تو فرعون نے حکم دیا کہ سارہ کو اس کے پاس لایا جائے۔
جب اس نے سارہ کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا، تو اس کا ہاتھ لکڑی کی طرح سخت ہو کر وہیں اکڑ گیا!
تب اس نے سارہ سے التجا کی کہ وہ اللہ سے دعا کریں کہ وہ اس کا ہاتھ کھول دے، اور وہ اب ان کے قریب نہیں جائے گا،
کیونکہ وہ جان گیا تھا کہ سارہ اور ابراہیم علیہ السلام اللہ کی عبادت کرنے والے موحد ہیں۔
سارہ نے دعا کی، تو وہ ٹھیک ہو گیا۔
لیکن وہ اپنے عہد سے پھر گیا اور دوبارہ ان کی طرف ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی،
تو اس بار وہ پہلے سے بھی زیادہ سخت تکلیف میں مبتلا ہو گیا۔
تب اس نے اپنے خادموں کو پکارا اور انہیں بتایا کہ یہ عورت انسان نہیں بلکہ کوئی شیطانی قوت ہے!
اور حکم دیا کہ اسے آزاد کر دو اور ہاجرہ کو تحفے کے طور پر ان کے حوالے کر دو۔
سارہ واپس ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے سارا ماجرا سنایا۔
اور کہا جاتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے لیے حجاب ہٹا دیے تھے،
چنانچہ وہ فرعون اور سارہ کے درمیان ہونے والے تمام حالات کو دیکھ رہے تھے،
تاکہ اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کو تسلی ملے،
ان کا دل مطمئن ہو اور ان کی عزت و ناموس محفوظ رہے!
اے صحابیہ!
اس قصے میں جس ‘جھوٹ’ کا ذکر ہے، وہ وہ جھوٹ نہیں ہے جسے تم عام طور پر جانتی ہو،
یعنی وہ جھوٹ جو حق کو باطل میں بدل دے،
بلکہ یہ تو کسی مصلحت یا ضرورت کے تحت حقیقت کے علاوہ کچھ اور ظاہر کرنا تھا۔
اور اسلام ایک عظیم، حقیقت پسند اور زندگی کو آسان بنانے والا دین ہے،
اسی لیے اس نے تین مقامات پر بظاہر خلافِ حقیقت بات کہنے (جھوٹ بولنے) کی اجازت دی ہے:
مسلمان کا اپنے دشمنوں سے جھوٹ بولنا؛
کیونکہ یہ عقل کے خلاف ہے کہ کفار کسی مسلمان کو قیدی بنائیں اور وہ ان سے مسلمانوں کے راز اگلوانا چاہیں تو وہ انہیں سب کچھ سچ سچ بتا دے!
اور مسلمان کا آپس کے تعلقات کو درست کرنے (صلح کرانے) کے لیے جھوٹ بولنا؛
چنانچہ جب لوگوں میں اختلافات پیدا ہو جائیں جن کا حل ہونا ضروری ہو،
اور تم اپنی دو سہیلیوں کے درمیان اختلاف دیکھ کر ان میں سے ایک کے پاس جاؤ اور کہو:
“فلاں تم سے محبت کرتی ہے، اور اپنے کیے پر شرمندہ ہے، اور وہ تمہارے بارے میں بہت اچھے کلمات کہہ رہی تھی،
آؤ جو کچھ ہوا اسے بھول کر صلح کر لیتے ہیں”۔
اور پھر دوسری کے پاس جا کر بھی ایسی ہی باتیں کہو، تو اس سے اختلاف ختم ہو جائے گا،
اور تمہیں اس صلح کا اجر ملے گا اور تم پر جھوٹ کا کوئی گناہ نہیں ہوگا!
اور اسلام نے مرد کا اپنی بیوی سے اور عورت کا اپنے شوہر سے (محبت بڑھانے کے لیے) ایسی بات کہنے کی اجازت دی ہے،
جب بات دل جوئی اور جذبات کا خیال رکھنے کی ہو۔
مثلا ایک شوہر اپنی بیوی سے کہتا ہے: “تم دنیا کی خوبصورت ترین عورت ہو”،
جبکہ وہ خود بھی جانتا ہے کہ دنیا میں اس سے زیادہ خوبصورت عورتیں موجود ہیں،
اور بیوی بھی یہ بات جانتی ہے،
لیکن یہ حقیقت کا میدان نہیں ہے،
کیونکہ یہاں سچ بولنا دل کو توڑ سکتا ہے!
کبھی شوہر بیوی کے لباس کی تعریف کر دیتا ہے حالانکہ وہ اسے پسند نہیں ہوتا،
یا اس کے بالوں کے انداز کی تعریف کرتا ہے حالانکہ وہ اسے اچھا نہیں لگتا،
یا اس کے نئے کھانے کی تعریف کرتا ہے حالانکہ وہ اسے لذیذ نہیں لگتا،
یہ سب دل جوئی کے دائرے میں آتا ہے،
اور دل جوئی کرنا بھی ایک عبادت ہے!
جو بات شوہر کے حق میں کہی گئی ہے، وہی بیوی کے حق میں بھی کہی جائے گی!
ایک شخص نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ کیا وہ اس سے محبت کرتی ہے؟ اور اسے اللہ کا واسطہ دیا کہ وہ سچ بتائے۔
بیوی نے کہا: “جب آپ نے مجھے اللہ کا واسطہ ہی دے دیا ہے، تو سنیں، میں آپ سے محبت نہیں کرتی!”
وہ شخص شکایت لے کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔
عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو بلوایا اور اس کے اس رویے پر اسے ڈانٹا۔
عورت نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس سے جھوٹ بولوں؟
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “ہاں، اس سے جھوٹ بولو! کیا تمام گھر محبت پر ہی تعمیر ہوتے ہیں؟!
کیا لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مروّت اور پاسِ عہد کے تحت زندگی بسر نہیں کرتے؟!”
اے صحابیہ،
اب تم جان چکی ہو کہ ابراہیم علیہ السلام کا وہ عمل دراصل بہترین تدبیر اور حکمت کا حصہ تھا،
اسی طرح ان کا یہ فرمانا کہ: “میں بیمار ہوں”
محض اس لیے تھا کہ وہ ان کے ساتھ ان کے (مشرکانہ) تہوار میں شریک نہ ہوں،
اور ان کا یہ فرمانا کہ: “بلکہ یہ ان کے اس بڑے نے کیا ہے”
دراصل ان پر حجت قائم کرنے کے لیے تھا،
تاکہ وہ انہیں دکھا سکیں کہ یہ بت جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں،
نہایت عاجز ہیں، نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی فائدہ!
اس لیے تم اس بہانے (کہ میں تو سچ بول رہی ہوں) سخت مزاج نہ بنو!
دل جوئی کا خیال رکھنا ہی وہ ‘ڈپلومیسی’ ہے جو زندگی میں مطلوب ہے،
اور جب اختلافات پیدا ہوں تو تم ہمیشہ خیر کا سبب بنو،
لوگوں کے درمیان چغل خوری کر کے آگ پر تیل چھڑکنے کا کام نہ کرو،
اور یاد رکھو: چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا!
اے صحابیہ،
جو عورت پاکدامنی چاہتی ہے، اللہ اسے پاکدامن بنا دیتا ہے۔
بے شک اللہ اس بات سے کہیں زیادہ عادل ہے کہ تم پردہ اور حیا چاہو اور وہ تمہیں رسوا کر دے،
اور وہ اس سے کہیں بلند ہے کہ تم بھلائی کی طلب گار ہو اور وہ تمہیں شر میں ڈال دے،
اپنے دل اور اپنی نیت کو درست کرو اور پھر اسے اللہ پر چھوڑ دو،
کیونکہ تمام اسباب اسی کے ہاتھ میں ہیں،
فرعون کا ہاتھ صرف اس لیے مفلوج ہو گیا تھا کیونکہ اس نے ایک پاکدامن عورت کی طرف بڑھنے کی جسارت کی تھی،
پس تم اللہ کے ساتھ ہو جاؤ، اللہ تمہارے ساتھ ہوگا!
اے صحابیہ،
خوبصورتی، مال اور منصب ایسی نعمتیں ہیں جن کی حفاظت ہونی چاہیے؛
خوبصورتی کی حفاظت پردے اور اسے غیروں کے سامنے ظاہر نہ کرنے سے ہوتی ہے،
مال کی حفاظت اللہ کا شکر ادا کرنے اور فقراء کی مدد کرنے سے ہوتی ہے،
اور منصب کی حفاظت لوگوں کی خدمت کرنے سے ہوتی ہے،
تم خوبصورت بنو، اپنی انوثت (عورت پن) کا خیال رکھو،
میک اپ (سنگھار) بھی کرو،
خوبصورت ترین لباس بھی پہنو،
اور بہترین خوشبو کا استعمال بھی کرو،
لیکن صرف اس جگہ جہاں اس کا ہونا جائز ہے (یعنی اپنے گھر اور شوہر کے سامنے)!
تعلیم حاصل کرو، ڈگریاں لو، اور اگر چاہو تو تجارت بھی کرو،
امیر بنو لیکن بغیر تکبر اور ناشکری کے!
اپنی نوکری اور ملازمت میں کامیاب ہو، اور اونچے سے اونچا مقام حاصل کرنے کی کوشش کرو،
لیکن یہ کبھی نہ بھولنا کہ وہ ذات جس نے تمہیں یہ رفعت دی ہے،
وہ ایک مظلوم کی بددعا پر تمہیں نیچے گرانے پر بھی پوری قدرت رکھتی ہے!
اے صحابیہ،
تم خواہ کتنی ہی خوبصورت، امیر اور کامیاب کیوں نہ ہو جاؤ،
ہمیشہ اپنے شوہر کی اطاعت اور سائے میں رہو،
اس پر تکبر نہ کرو اور نہ ہی اس کی مردانگی کو کم تر سمجھو!
یہ نیک اور صالح عورتوں کا طریقہ اور اخلاق نہیں ہے۔
تم حسن میں چاہے کتنی ہی آگے بڑھ جاؤ، تم سارہ کے حسن تک نہیں پہنچ سکتیں،
اور وہ ابراہیم علیہ السلام کے زیرِ سایہ ایک فرماں بردار بیوی اور ان کے سفر کی بہترین رفیق تھیں!
اور تم مال و دولت میں چاہے کتنی ہی بڑی ہو جاؤ،
تم خدیجہ رضی اللہ عنہا کی دولت تک نہیں پہنچ سکتیں،
انہوں نے اپنا سارا مال اپنے شوہر (ﷺ) کے ہاتھوں میں تھما دیا تھا،
اور جب لوگوں نے انہیں جھٹلایا تو انہوں نے آپ ﷺ کی تصدیق کی،
اور جب لوگوں نے کفر کیا تو وہ آپ ﷺ پر ایمان لائیں!
بلا شبہ تمہارا یہ حق ہے،
اور یہ ایک ایسا حق ہے جس میں تم سے کوئی بحث نہیں کر سکتا،
لیکن وہ گھر جن میں دو الگ الگ راہیں (یا دو الگ الگ قبلے) ہوں،
وہاں زندگی گزارنا ناگوار اور ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے!

