مترجم:علامہ سعید احمد اشرفی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک منفرد قسم کی خاتون
اے صحابیہ!
تم بھی اپنے نبی اور محبوب ﷺ کی سفروں میں رفیق سفر بننے کی تمنا رکھتی ہو، جانتی ہو کہ اُن کے ساتھ سفر ک خوشگوار ہوتا ہے! اُن کا دیدار راستے کی تمام تھکن مٹا دیتا ہے اور اُن کی میٹھی گفتگو سفر کی صعوبتوں کو ختم کر دیتی ہے۔
چنانچہ، آپ ﷺ ایک سفر میں تھے، ایک اعرابی (دیہاتی) کے مہمان بنے، اُس نے آپ ﷺ کی خوب خاطر مدارات کی۔ چونکہ آپ ﷺ احسان فراموش نہیں تھے، فرمایا: اے اعرابی! مانگو کیا مانگتے ہو؟
میری ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، وہ اعرابی کسی اور کا نہیں، بلکہ خود نبی کریم ﷺ کے احسان کا بدلہ چاہتا تھا۔ اعرابی کے پاس زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ وہ واپس آ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اعرابی! مانگو، کیا ضرورت ہے؟
اُس نے کہا: ایک اونٹنی جس پر سوار ہو سکوں، اور ایک بکری جس کا دودھ میرے گھر والے پی سکیں۔
چونکہ آپ ﷺ بلند مقاصد پسند فرماتے تھے، آپ ﷺ نے اعرابی سے فرمایا: کیا تم میں یہ صلاحیت نہیں تھی کہ بنی اسرائیل کی اس بوڑھی خاتون جیسی ہمت دکھاتے؟
یقیناً آپ کے ذہن میں اب تجسس پیدا ہو رہا ہوگا! آپ جاننا چاہتی ہیں کہ بنی اسرائیل کی اُس بوڑھی خاتون کا قصہ کیا ہے؟
یہ صحابہ کرام کا بھی حال تھا، وہ فوراً سوال کر بیٹھتے تھے: اے اللہ کے رسول! بنی اسرائیل کی وہ بوڑھی خاتون کون تھی؟
آپ ﷺ نے اُنہیں بتایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی قوم کو وصیت کی تھی کہ جب وہ مصر سے نکلیں تو اُن کے جسدِ خاکی کو اپنے ساتھ لے جائیں تاکہ اُنہیں فلسطین میں دفن کیا جائے۔
سال گزرتے گئے، صدیاں بیت گئیں، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ مصر سے نکلنے کا وقت آ گیا ہے۔
اُنہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی اُس وصیت کے بارے میں پوچھا جسے نسل در نسل آگے پہنچایا گیا تھا۔ بنی اسرائیل کے لوگوں نے اُنہیں بتایا کہ اُنہیں یوسف علیہ السلام کے قبر کے مقام کا علم نہیں ہے۔
مگر بنی اسرائیل میں ایک بوڑھی خاتون تھی جسے اپنے آباء و اجداد سے یہ علم حاصل تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُس سے قبر کا مقام بتانے کی درخواست کی۔ اُس نے اس شرط پر بتانے کا وعدہ کیا کہ وہ اُسے جنت میں اپنے ساتھ رکھیں گے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس شرط کو مان لیا کیونکہ اُنہیں لوگوں کو جنت میں داخل کرنے کا اختیار نہیں تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف وحی بھیجی کہ اُس کی یہ خواہش پوری کر دیں۔
تب اُس نے اُنہیں ایک دلدلی علاقے کی طرف رہنمائی کی اور کہا: اس پانی کو خشک کر دیں، اسی کے نیچے حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔
اے صحابیہ!
اگر کوئی تم پر احسان کرے تو اسے فراموش مت کرو، اور موقع ملنے پر اُس کا بدلہ چکانے کے لیے تیار رہو۔
نبی کریم ﷺ کا بھی یہی معمول تھا۔ ایک اعرابی کی معمولی سی میزبانی کو آپ ﷺ نے کبھی نہیں بھلایا۔ اُس سے کہا تھا کہ جب کبھی ضرورت ہو، میرے پاس آنا۔
لوگوں کے احسان کو یاد رکھو، وقت کے بدلنے کا انتظار کرو، جب تمہاری باری آئے تو اپنے وعدے پر پورا اترو۔ اور اگر موقع نہ بھی ملے تو احسان کا بدلہ نہ چکانا، اُس کے انکار کرنے سے بہتر ہے کہ آپ اُس کا احترام کریں۔ احسان فراموش شخص کی کوئی قدر نہیں کرتا۔
جب نبی کریم ﷺ طائف میں پتھراؤ کے بعد مکہ واپس آنا چاہتے تھے، تو اُنہوں نے دیکھا کہ قریش کے سرداروں نے اُن کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ آپ ﷺ نے مطعم بن عدی سے پناہ طلب کی۔
مطعم بن عدی اگرچہ مشرک تھا مگر بہت شریف اور بہادر انسان تھا۔ اُس نے آپ ﷺ کو پناہ دے دی اور اپنی حفاظت میں مکہ میں داخل کیا۔
مطعم بن عدی کا انتقال ہو گیا، لیکن نبی کریم ﷺ اُس کا احسان نہ بھولے۔ جنگِ بدر کے بعد جب قریش کے قیدیوں کے بارے میں بات ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر مطعم بن عدی آج زندہ ہوتا اور مجھ سے ان بدبودار لوگوں (قیدیوں) کے بارے میں سفارش کرتا تو میں اُس کی خاطر اُن سب کو رہا کر دیتا۔
اے صحابیہ! وفا دیکھو!
وہ لوگ جو آپ ﷺ کے قتل کے درپے تھے، اگر وہ بھی آج زندہ ہوتے اور مطعم بن عدی کی سفارش پر آتے تو آپ ﷺ اُنہیں رہا کر دیتے۔
اے صحابیہ!
وہ رب جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیج سکتا تھا، وہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر کا مقام بتانے پر بھی قادر تھا تاکہ ایک بوڑھی خاتون سے الجھنا نہ پڑتا۔ لیکن وہ کریم رب نیتوں کا بدلہ دیتا ہے۔ اُس نے جان لیا تھا کہ اُس خاتون کو جنت کا کتنا شوق ہے۔ اسی لیے اُس نے یہ راز اپنے نبی سے چھپائے رکھا تاکہ اُسے جنت عطا کر سکے۔
اپنی نیت درست کرو، اللہ کی رضا اور جنت کی طلب میں سچی رہو، وہ تمہیں سب سے آسان راستے سے نوازے گا۔ اللہ کے ساتھ سچائی ہی اصل راز ہے۔
کوئی ایسا اعرابی آیا جسے صحابہ میں سے کوئی نہیں جانتا تھا۔ اُس نے اسلام اور جہاد پر آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ جنگ میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی، آپ ﷺ نے غنیمت کا مال تقسیم کیا۔
وہ اعرابی موجود نہیں تھا، آپ ﷺ نے اُس کا حصہ الگ رکھ دیا تھا۔ جب وہ آیا تو آپ ﷺ نے وہ مال اُسے دے دیا۔ اُس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارا حصہ ہے۔
اُس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس لیے بیعت نہیں کی تھی! بلکہ اس لیے کی تھی کہ مجھے یہاں تیر لگے اور میں شہید ہو کر جنت میں داخل ہو سکوں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اللہ سے سچ بولو گے تو وہ تمہیں سچا ثابت کرے گا۔
پھر ایک اور جنگ ہوئی، وہ اعرابی شہید ہو گیا اور تیر اُسی جگہ لگا تھا جہاں اُس نے اشارہ کیا تھا۔
آپ ﷺ نے پوچھا: کیا یہ وہی ہے؟
لوگوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول!
آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے اللہ سے سچ بولا، تو اللہ نے اُسے سچا ثابت کر دیا۔
اے صحابیہ!
عزم رکھو اور مواقع کو غنیمت جانو۔ اعرابی کی طرح مت بنو جس کے پاس سنہری موقع تھا، مگر اُس نے اسے معمولی اور فانی دنیا کی چیزوں کے عوض ضائع کر دیا۔
بلاشبہ اللہ سوال کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اُس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ مجھ سے اپنے جانور کا چارہ، اپنی آٹے کا نمک اور اپنے جوتے کا تسمہ بھی مانگو۔
لیکن اصل بات یہ ہے کہ تم اپنے دل کو جنت سے جوڑ لو۔ جس چیز کا تعلق تمہارے اور جنت کے درمیان ہے، اُسے چھوڑ دو۔ اور جو چیز تمہیں اللہ سے دور کرتی ہے، اُسے بلا جھجک ترک کر دو، اللہ اس کا بہتر نعم البدل عطا فرمائے گا۔
اے صحابیہ!
جو نہیں جانتی، اُس کے بارے میں سوال کرنے میں کوئی شرم نہیں۔ اصل شرم تو یہ ہے کہ انسان خود کو عقلِ کل سمجھے۔
دیکھو، موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کی قبر کے بارے میں پوچھا، کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے۔ کوئی بھی عالم پیدا نہیں ہوتا!
ہم سب بہت سی چیزوں سے ناواقف ہیں۔ اللہ کی عبادت بصیرت کے ساتھ کرو۔ اپنے دین کے بارے میں علم حاصل کرنے کے لیے سوال کرو، پڑھو، سمجھو، اور اپنے علم و عرفان میں اضافہ کرو۔
یاد رکھو، علم ہی طاقت ہے۔

