مترجم:علامہ سعید احمد اشرفی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا تم دہلیز ہو؟
اے میری صحابیہ!
کہانی کی ابتدا سے سنو۔
تم سارہ کے ساتھ فرعون کے محل میں تھیں،
اور ہاجرہ کے ساتھ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑ رہی تھیں۔
بات اس وقت کی ہے جب قبیلہ جُرہم وہاں آیا،
اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ سے ان کے قریب پڑاؤ ڈالنے کی اجازت چاہی۔
شاید اب تم پوچھو گی: اس کے بعد کیا ہوا؟
کئی سال گزر گئے،
حضرت اسماعیل علیہ السلام جُرہم کی آغوش میں پروان چڑھے،
ان سے عربی زبان سیکھی،
اور انہی میں سے ایک خاتون سے شادی بھی کی۔
پھر ہاجرہ وفات پا گئیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے حالات جاننے کے لیے تشریف لائے،
وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گھر گئے مگر انہیں وہاں نہ پایا،
ان کی اہلیہ سے دریافت کیا تو اس نے کہا: وہ ہمارے لیے رزق تلاش کرنے گئے ہیں۔
پھر آپ نے ان سے ان کے حالات اور گزر بسر کے بارے میں پوچھا،
تو وہ کہنے لگی: ہم بہت برے حال میں ہیں، ہم تنگی اور مشکل میں مبتلا ہیں۔
وہ ان سے شکایتیں کرنے لگی، حالانکہ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کون ہیں!
آپ نے فرمایا: جب تمہارا شوہر آئے تو اسے میرا سلام کہنا،
اور اس سے کہنا کہ: اپنے دروازے کی دہلیز بدل لو!
جب حضرت اسماعیل علیہ السلام تشریف لائے تو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی…
…ان کی اہلیہ سے پوچھا: کیا کوئی آیا تھا؟
اس نے کہا: جی ہاں، ایک بزرگ آئے تھے جن کا حلیہ ایسا ایسا تھا،
انہوں نے آپ کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں بتا دیا۔
پھر انہوں نے مجھ سے ہماری زندگی کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں بتایا کہ ہم تنگی اور مشکل میں ہیں۔
انہوں نے پوچھا: کیا انہوں نے تمہیں کوئی نصیحت کی؟
اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے حکم دیا کہ تم پر سلام کہیں،
اور کہتے ہیں کہ: اپنے دروازے کی دہلیز بدل لو!
آپ نے فرمایا: وہ میرے والد تھے، اور انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں طلاق دے دوں، اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔
پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے دوسری خاتون سے شادی کر لی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کچھ عرصے بعد اپنے بیٹے سے ملنے دوبارہ تشریف لائے،
لیکن انہیں دوبارہ نہ پایا، تو ان کی نئی اہلیہ سے ملاقات ہوئی۔
آپ نے پوچھا: تمہارا شوہر کہاں ہے؟
اس نے کہا: وہ ہمارے لیے رزق تلاش کرنے گئے ہیں۔
آپ نے پوچھا: تم لوگ کیسے ہو، اور تمہارا گزارا کیسا ہے؟
اس نے کہا: ہم خیر و عافیت سے ہیں، اور اللہ کا بہت فضل ہے۔
آپ نے پوچھا: تمہارا کھانا کیا ہے؟
اس نے کہا: گوشت۔
آپ نے پوچھا: اور تمہارا پینے کا کیا ہے؟
اس نے کہا: پانی۔
آپ نے فرمایا: اے اللہ! ان کے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرما۔
ان کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہ تھا، اگر کچھ اور ہوتا تو ان کے لیے اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔
پھر آپ نے فرمایا: جب تمہارا شوہر آئے تو اسے میرا سلام کہنا،
اور اس سے کہنا کہ: اپنے دروازے کی دہلیز مضبوط رکھنا!
جب حضرت اسماعیل علیہ السلام تشریف لائے تو پوچھا: کیا کوئی تمہارے پاس آیا تھا؟
اس نے کہا: جی ہاں، ایک بہت ہی حسین و جمیل بزرگ آئے تھے، انہوں نے آپ کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں بتا دیا،
پھر انہوں نے ہماری زندگی کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتایا کہ ہم خوشحال ہیں۔
آپ نے پوچھا: کیا انہوں نے کوئی نصیحت کی؟
اس نے کہا: جی ہاں، وہ آپ پر سلام کہہ رہے تھے،
اور آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ اپنے دروازے کی دہلیز مضبوط رکھیں۔
آپ نے فرمایا: وہ میرے والد تھے، اور آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اپنے ساتھ رکھوں۔
اے میری صحابیہ!
تم کتنی ہی سچی کیوں نہ ہو،
اور تمہارا دعویٰ کتنا ہی درست کیوں نہ ہو،
طرزِ بیان سب سے پہلے آتا ہے!
تم سختی والی باتیں بھی نرم لہجے میں کہہ سکتی ہو،
تاکہ مقصد بھی حاصل ہو جائے اور کسی کا دل بھی نہ دکھے۔
ذرا غور کرو، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کتنی عمدہ کنایہ (اشارہ) استعمال کی!
ان سے کہہ سکتے تھے: یہ میری بیوی ہے، اسے طلاق دے دو!
حالانکہ نتیجہ ایک ہی تھا،
لیکن یہ انبیاء کا اسلوب ہے۔
وہ بہترین الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں اور اپنے خیالات کو خوبصورت لبادہ پہناتے ہیں!
اور یقیناً تمہارے لیے ان میں بہتری ہے۔
اے صحابیہ!
تم نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے کو بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا،
تو انہوں نے اس کی عزت پر کوئی حرف نہیں آنے دیا، معاذ اللہ!
پھر یہ کہ انبیاء کے گھرانے گناہوں سے معصوم نہیں ہیں،
البتہ وہ زنا سے معصوم ہیں۔
حضرت لوط اور حضرت نوح علیہ السلام کی بیویوں کی خیانت جو قرآن میں مذکور ہے،
وہ عقیدے اور کفر کی خیانت تھی، نہ کہ پاک دامنی کی!
لیکن انہوں نے (اپنی بیوی کی) بہت زیادہ شکایت اور ناشکری پر عیب لگایا،
کیونکہ ایسی عورت جو قناعت نہ کرے، ایک ایسا مہلک مرض ہے جو زندگی برباد کر دیتا ہے!
پس قناعت کرو، اللہ تم پر رحم کرے۔
یقیناً اللہ تعالیٰ نے بندوں کے درمیان رزق ایک حکمت کے تحت تقسیم کیا ہے جسے وہی جانتا ہے!
اس نے تمہیں فقر سے محروم نہیں رکھا،
اور نہ ہی تمہیں دوسروں جیسا دے کر نوازا کیونکہ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے،
تمہاری ذمہ داری ہے کہ تنگی اور محرومی کے وقت صبر کرو،
اور کثرت اور نوازش کے وقت شکر ادا کرو،
صبر کرنے والا اور شکر کرنے والا اجر میں برابر ہیں!
دونوں ہی بندگی کے امتحان میں کامیاب ہوئے۔
اے صحابیہ!
جیسا کہ تم نے دیکھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے،
اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی،
ان کی ناشکر گزار بیوی کے اعتراف کے باوجود جب اس نے کہا:
وہ ہمارے لیے رزق تلاش کرنے گئے ہیں۔
لیکن یہ وہی رزق ہے جو اللہ نے ان کے لیے مقدر کیا ہے!
پس اگر تم رزق کی تنگی میں مبتلا ہو،
تو اپنے شوہر کے لیے دنیا میں مددگار بنو، نہ کہ اس کے لیے دنیا کی مشکلات میں اضافہ کرو!
اے صحابیہ!
ہم سب کے پاس آنکھیں تو ہیں مگر ہم ایک ہی طرح نہیں دیکھتے!
کبھی کبھی خرابی منظر میں نہیں ہوتی،
بلکہ اسے دیکھنے والی آنکھ میں ہوتی ہے۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام دو بیویوں کے ساتھ ایک جیسے ہی تھے،
ان کے حالات نہیں بدلے، اور ان کے رزق کے ذرائع بھی وہی رہے،
ان کے پاس صرف وہی کھانا تھا جو وہ اپنی کمان سے شکار کرتے،
وہ تیر اندازی میں لوگوں میں سب سے ماہر تھے،
لیکن دونوں بیویوں کا زندگی کو دیکھنے کا انداز مختلف تھا!
پہلی بہت ناشکری، تھوڑے پر بھی راضی نہ ہونے والی،
اور دوسری بہت شکر گزار، بہت قناعت کرنے والی،
اس لیے کہ غنا (مالداری) تو دل کی دولت ہے،
نہ کہ جیب کی۔
اور جب بندہ اپنے رب کے ساتھ ادب سے پیش آتا ہے، تو وہ اس کے لیے سب کچھ آسان کر دیتا ہے،
ایک شخص بیمار ہوتا ہے تو اللہ سے شکوہ کرتا ہے اور بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے،
اور دوسرا بیمار ہوتا ہے تو صبر کرتا ہے، اللہ کی حمد کرتا ہے، اور دعا کرتا ہے،
دونوں بیماری میں برابر ہیں!
لیکن ان کے دلوں کے درمیان آسمان اور زمین کا فرق ہے،
زندگی بندگی کا امتحان ہے، پس ناکام نہ ہونا!
جاری ہے۔۔۔۔۔۔

