کیا تم بھی اپنی بہن جیسی ہو؟
11
مترجم:علامہ سعید احمد اشرفی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیماری کے باوجود پردہ!
تم بھی ایک صحابیہ ہو!
اور تم اپنی صحابیات بہنوں کے حالات جاننا پسند کرتی ہو، اور آج تم ان میں سے ایک کے ساتھ ہو۔
اس واقعے کو محسوس کرو اور اس منظر پر غور کرو!
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے شاگرد عطاء بن ابی رباح سے فرمایا:
کیا میں تمہیں جنت کی ایک عورت نہ دکھاؤں؟
عطاء نے کہا: کیوں نہیں!
تو ابن عباس نے انگلی سے اشارہ کیا اور فرمایا:
یہ عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور آپ سے عرض کیا:
یا رسول اللہ، مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میرا پردہ کھل جاتا ہے، تو میرے لیے اللہ سے دعا فرمائیں!
تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: اگر تم چاہو تو صبر کرو اور تمہارے لیے جنت ہے، اور اگر چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں کہ وہ تمہیں شفا دے دے!
اس نے کہا: بلکہ میں صبر کروں گی، لیکن میرا پردہ کھل جاتا ہے، تو اللہ سے دعا کریں کہ میرا پردہ نہ کھلے!
تو آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرما دی!
اے صحابیہ،
تمہاری یہ بہن مرگی کی بیماری میں مبتلا تھی،
جب اسے مرگی کا دورہ پڑتا، تو وہ زمین پر گر جاتی،
اور بے ہوشی کے عالم میں اس کے سر سے دوپٹہ گر جاتا اور اس کا کچھ پردہ کھل جاتا،
تو وہ دلوں اور جسموں کے طبیب ﷺ کے پاس شکایت لے کر آئی،
تو آپ ﷺ نے اسے اختیار دیا کہ یا تو وہ اس کے لیے شفا کی دعا کریں،
یا وہ صبر کرے اور اس کے صبر کا بدلہ جنت ہو!
اور چونکہ صحابیہ کو جنت سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں لگتی تھی،
اس نے شفا پر بیماری کو ترجیح دی!
لیکن اس پر یہ بات بہت گراں گزری کہ اس کا کوئی حصہ بے پردہ ہو،
حالانکہ اس پر کوئی گرفت نہیں تھی، اور یہ معاملہ اس کے بس میں بھی نہیں تھا،
لیکن ایک محفوظ موتی (باعفت عورت) کو اپنی عزت گوارا نہیں ہوتی کہ اس پر آنچ آئے!
اے صحابیہ،
خبردار! پردے میں ہرگز کوتاہی نہ کرنا،
خبردار! دیکھنے والوں کے سامنے اپنے بال نہ کھولنا،
ایسی عام نہ بنو کہ مرد تمہیں اپنی نگاہوں سے کھا جائیں،
اپنی نظروں میں خود کو اتنا نہ گراؤ کہ تم اللہ کے نزدیک بھی گر جاؤ!
اور بے پردگی والے پردے سے بچو!
وہ پردہ جس میں پردے سے زیادہ بے پردگی ہوتی ہے!
پردہ محض بال چھپانے سے بڑھ کر ہے،
اور وہ کوئی پردہ نہیں جس میں ایک باحجاب اور بے حجاب کے پہناوے میں سر پر رکھے کپڑے کے ایک ٹکڑے کے سوا کوئی فرق نہ ہو!
سر چھپانا پردہ نہیں اگر کپڑے تمہارے جسم کی ساخت نمایاں کر رہے ہوں!
پردہ ایسا لباس ہے جو جسم کو ڈھانپے، نہ وہ جسم کے خدوخال ظاہر کرے اور نہ ہی باریک ہو،
باقی گردن، کلائیاں اور پنڈلیوں کا کھلا ہونا، یہ فیشن کا پردہ ہے،
دین اور شریعت کا پردہ نہیں!
اے صحابیہ،
تمہاری صحابیات بہنوں پر اپنے قدموں کا ننگا ہونا بہت گراں گزرتا تھا!
ایک دن نبی ﷺ نے اپنے صحابہ سے بات کرتے ہوئے فرمایا:
جو تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا، قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کھڑی ہوئیں اور آپ سے عرض کیا:
عورتیں اپنے کپڑوں کے کناروں (دامن) کا کیا کریں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ایک بالشت لٹکا لیا کریں۔
انہوں نے کہا: تب تو ان کے قدم ننگے ہو جائیں گے،
آپ ﷺ نے فرمایا: ایک ہاتھ لٹکا لیں اور اس سے زیادہ نہ کریں۔
سبحان اللہ کیسا پردہ ہے اے ام سلمہ، کیسا پردہ!
نبی ﷺ ان سے فرما رہے ہیں کہ اپنا کپڑا ایک بالشت لٹکاؤ،
تو وہ آپ کو بتا رہی ہیں کہ یہ کافی نہیں اور اس سے قدم ننگے ہو جائیں گے!
تو آپ ﷺ نے انہیں اور ان کی بہنوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے کپڑے ایک ہاتھ بڑھا لیں!
اس طرح تمہاری بہنیں پردے پر بحث کیا کرتی تھیں نہ کہ بے پردگی پر،
ان میں سے ایک رخصت مانگتی ہے تاکہ پردے میں اضافہ کرے،
اور اس پر گراں گزرتا ہے کہ اس کا قدم دیکھا جائے!
اے صحابیہ،
انصار کی ایک عورت کہتی ہے: میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی،
تو ان کے پاس نبی ﷺ تشریف لائے اور آپ ایسے لگ رہے تھے جیسے ناراض ہوں،
تو میں نے اپنے کپڑے کی آستین سے پردہ کر لیا!
تو آپ ﷺ نے کچھ ایسی بات کی جو میں سمجھ نہ سکی،
جب آپ چلے گئے تو میں نے کہا: اے ام المومنین ایسا لگا کہ میں نے نبی ﷺ کو ناراض دیکھا ہے؟
ام سلمہ نے فرمایا: ہاں، کیا تم نے انہیں نہیں سنا؟
اس نے پوچھا: انہوں نے کیا فرمایا؟
ام سلمہ نے فرمایا: آپ ﷺ نے فرمایا: جب زمین میں برائی پھیل جائے اور اس سے روکا نہ جائے تو اللہ عزوجل زمین والوں پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے!
تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا ان میں نیک لوگ بھی ہوتے ہیں؟
فرمایا: ہاں، ان میں نیک لوگ بھی ہوتے ہیں، انہیں بھی وہی پہنچتا ہے جو لوگوں کو پہنچتا ہے، پھر اللہ عزوجل انہیں اپنی بخشش اور رحمت کی طرف اٹھا لیتا ہے!
اور اس قصے میں دلیل یہ ہے کہ اس عورت نے اپنی آستین سے اپنا چہرہ چھپا لیا جب نبی ﷺ داخل ہوئے۔
میرے ساتھ اس منظر کا تصور کرو!
وہ نبی ﷺ سے پردہ کر رہی ہے اور وہ سب سے پاکیزہ ہستی ہیں!
اور وہ جانتی ہے کہ آپ لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے ہیں!
اسی لیے تمہیں پرہیزگاروں سے بھی پردے کا حکم دیا گیا ہے!
اے صحابیہ،
حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر اپنی پھوپھی عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں،
اور حفصہ نے ایک باریک دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جس سے ان کا چہرہ نظر آ رہا تھا،
تو عائشہ رضی اللہ عنہا کھڑی ہوئیں اور حفصہ کا دوپٹہ پھاڑ دیا،
اور ان سے فرمایا: کیا تم نہیں جانتیں کہ اللہ نے سورہ نور میں کیا نازل کیا ہے؟!
پھر انہیں ایک موٹا (دبیز) دوپٹہ دیا!
سوچو اگر عائشہ رضی اللہ عنہا آج کا پردہ دیکھ لیتیں تو کیا کرتیں؟
تو اللہ سے ڈرو اے صحابیہ!
اے صحابیہ،
جب فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اس بیماری میں مبتلا ہوئیں جس میں ان کا وصال ہوا،
تو ام جعفر بنت محمد ان کے پاس آئیں اور وہ ان لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی،
تو فاطمہ نے ان سے فرمایا: اے ام جعفر مجھے یہ بہت برا لگتا ہے کہ عورت کے ساتھ مرنے کے بعد جو کیا جاتا ہے، اس پر ایک کپڑا ڈال دیا جاتا ہے جو اس کی ساخت یوں ظاہر کرتا ہے جیسے مردوں کو جب اٹھایا جاتا ہے!
تو ام جعفر نے ان سے کہا: اے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی! کیا میں آپ کو وہ چیز نہ دکھاؤں جو میں نے حبشہ میں دیکھی تھی؟
فاطمہ نے ان سے فرمایا: کیوں نہیں!
تو ام جعفر نے کھجور کی ٹہنیاں منگوائیں،
تو انہیں جنازے (چارپائی) کے کناروں پر رکھا، پھر ان کے اوپر ایک کپڑا ڈال دیا،
فاطمہ کو یہ بہت پسند آیا اور فرمایا:
یہ کتنا اچھا اور خوبصورت ہے!
سبحان اللہ کیسا پردہ ہے اے فاطمہ، کیسا پردہ!
وہ ڈر رہی ہیں کہ موت کے بعد بھی ان کا جسم نمایاں ہو!
تو کیا ایک صحابیہ کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ جیتے جی ایسا کرے؟!
اللہ کی قسم نہیں اے صحابیہ، یہ زیب نہیں دیتا!
جاری ہے۔۔۔۔۔

