chatgpt image aug 18, 2026, 08 22 09 pm

ماہِ ربیع الاول کے احکام و مسائل

ماہِ ربیع الاول میں پوچھے جانے والے سوالات کے عام فہم انداز میں جواب۔

ماہ ربیع الاول کے مسائل و احکام

سوال: میلاد کیا ہے ؟ کیا مسلمانوں میں کوئی مخصوص اور شرعا مقرر کی گئی عبادت ہے؟

جواب: میلاد کوئی مخصوص کردہ مقررہ عبادت نہیں ہے ۔یہاں تک کہ قرآن و حدیث میں صاف صاف دو ٹوک الفاظ میں میلاد منانے یا نا منانے کا حکم نہیں بلکہ قرآن و حدیث اور نبی پاک کے عمل اور صحابہ کرام اہل بیت کے اقوال و عمل میں غور کیا تو واضح ہوا کہ”نبی پاک صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ وسلم کی ولادت کی مناسبت سے اچھے،جائز طریقوں سے شکر ادا کرنا، ذکرِ نبی کرنا، صحیح طریقے سے خوشی کا اظھار کرنا میلاد کہلاتا ہے

(ماخذ:حول الاحتفال صفحہ13تا35، حسن المقصد ص196)

سوال: میلاد میں کیا کیا کام شامل ہوتے ہیں؟

جواب:جلسے جلوس جھنڈے عمدہ لباس…عبادت ذکر اذکار درود کی کثرت….روزہ نوافل عبادت ذکر حمد نعت تحریر تقریر صدقہ خیرات وغیرہ اگر “نبی پاک کی ولادت کی مناسبت سے ہوں صحیح طریقے سے ہوں تو یہ سب میلاد میں شامل ہیں

(ماخذ حول الاحتفال ص13تا35)

سوال: سب سے پہلے کس نے میلاد منایا؟

جواب:سب سے پہلے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے میلاد منایا۔

(حول الاحتفال صفحہ16)

سوال:میلاد فرض ہے یا واجب…؟ کوئی نا منائے تو؟

جواب:میلاد کی اصل سنت ہے، مروجہ طریقے سے میلاد مستحب ہے جائز و ثواب ہے فرض واجب نہیں،

کسی ایک طریقے یا مختلف طریقوں سے میلاد منا سکتے ہیں تو اگر کوئی ایک طریقے سے میلاد مناے اور جلوس وغیرہ باقی طریقوں میں شرکت نا کرے مگر توہین اور بے ادبی بھی نا کرے تو اسے گستاخ یا گناہ گار یا محبت نا کرنے والا نہیں کہہ سکتے.(ماخذ حول الاحتفال ص63)

علامہ شامی نے فرمایا:کثرت سے درود و سلام پڑھا جاے تو بھی کافی ہے۔

(جواہر البحار 3/340)

سوال: اسلام کے مرکز مکہ و مدینہ میں میلاد نہیں منایا جاتا پھر آپ لوگ کیوں مناتے ہو؟

جواب:موجودہ قسم کی حکومت سے پہلے حرمین شریفین میں میلاد منایا جاتا تھا…حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی جو تھانوی گنگوہی وغیرہ علماء دیوبند کے مرشد ہیں فرماتے ہیں

تمامی حرمین کے لوگ میلاد مناتے ہیں ہمارے Blogلیئے یہی حجت کافی ہے.(شمائم امدادیہ صفحہ 87)

محدث کبیر علامہ ابن جوزی رحمۃ ﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’یہ اچھا عمل (یعنی میلاد) ہمیشہ سے حرمین شریفین یعنی مکہ و مدینہ، مصر، یمن و شام تمام بلاد عرب اور مشرق و مغرب کے رہنے والے مسلمانوں میں جاری ہے اور وہ میلاد النبیﷺ کی محفلیں قائم کرتے اور لوگ جمع ہوتے ہیں۔(المیلاد النبویﷺ)

سوال : 12 ربیع الاول تو یومِ وفات ہے اور آپ لوگ اسی دن خوشیاں مناتے ہیں اور اسے محبت کا نام دیتے ہیں؟

جواب: رسول اللہ ﷺ کی ولادت اور وفات کے حوالے سے روایات پیشِ خدمت ہیں۔

حضرت سیدنا ابن عباس اور سیدنا جابر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پیر کے دن بارہ ربیع الاول میں ہوئی…

(البدایہ والنھایہ3/375 سیرت ابن ہشام1/58

فتاوی رضویہ26/411, سیرت رسول مصنف مفتی شفیع دیوبندی ص36)

سبل الھدی تاریخ طبری دلائل النبوہ عیون الاآثار زرقانی مستدرک حاکم وغیرہ کئ کتب میں یہی بات لکھی ہے

وفات!

اور نبی پاک کی وفات دو ربیع الاول میں ہوئی۔

(البدایہ والنہایہ4/228.. فتح الباری شرح بخاری8/474

مرقاۃ شرح مشکاۃ11/238))

کچھ کتابوں میں لکھا ہے کہ وفات بھی بارہ ربیع الاول میں ہوئی مگر علماء محققین کی تحقیق ہے کہ وفات بارہ کو ثابت نہین حتی کہ دیوبندیوں کے معتبر عالم اشرف تھانوی نے بھی لکھا کہ وفات بارہ کو ثابت نہیں

(نشر الطیب ص241 سبل الھدی12/305)

امام احمد رضا لکھتے ہیں

تحقیق یہ ہے کہ حقیقتا حسبِ رویت مکہ معظمہ ربیع الاول شریف کی تیرویں تھی..(نطق الھلال فتاوی رضویہ26/417)

دیکھا آپ نے کہ وفات بارہ کو ثابت نہیں، پھر بالفرض بارہ کو وفات ہو تو بھی میلاد پر فرق نہین پڑے گا، کیونکہ ایک ہی دن وفات ہو اور اسکو خوشی کا دن عید بھی کہا جائے یہ حدیث پاک سے ثابت ہے، جمعہ کے کو سیدنا ادم علیہ السلام کی وفات ہے اور اسی جمعہ کے دن کو نبی پاک نے عید بھی فرمایا۔

سوال:میلاد دور نبوی میں نہیں تھا، خلفاء راشدین صحابہ کرام تابعین کے دور میں نہیں تھا تو یہ بدعت ہوا………؟؟بدعت کیوں نہیں، بدعت کیا ہے……؟

جواب:میلاد ایک طریقے سے خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے منایا، صحابہ کرام تابعین اولیاء علماء اسلاف نے منایا ہے، لہذا میلاد دور نبوی میں بھی تھا، دور صحابہ میں بھی تھا، دور تابعیں میں بھی تھا، خلفاء راشدین کے دور مین تھا،

میلاد کی اصل قران احادیث سنت سے ثابت ہے اور میلاد کا کوئی ایک طریقہ مقرر نہیں اس لیے میلاد کے مروجہ نئے طریقے بھی جائز و ثواب کہلائیں گے۔

حدیث پاک میں ہے کہ وما سكت عنه فهو مما عفا عنه

ترجمہ:جس چیز کے متعلق(قرآن و احادیث میں)خاموشی ہو(مطلب دوٹوک حلال یا دوٹوک حرام نہ کہا گیا ہو تو)وہ معاف ہے، جائز ہے… (ابن ماجہ حدیث3368)

یہ حدیث ترمذی اور ابوداؤد وغیرہ بہت کتابوں میں ہےحدیث پاک میں ہے

من سن في الإسلام سنة حسنة، فعمل بها بعده، كتب له مثل أجر من عمل بها، ولا ينقص من أجورهم شيء

جس نے اسلام میں اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کے بعد جو جو اس پر عمل کرے گا ان سب کا ثواب اسے ملے گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں بھی کمی نا آئے گی۔(مسلم حدیث نمبر1017)

یہ حدیث پاک ابن ماجہ سنن نسائی وغیرہ بہت کتابوں میں بھی ہے۔

ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ عبادت وہ نیک کام جسکا کوئی ایک طریقہ مقرر نا ہو تو اس کے نئے طریقے بدعت نہیں بلکہ اس کے نئے پرانے سب طریقے جائز ہیں ہاں جس کام جس عبادت کے طریقے اسلام نے متعین و مخصوص کر دیے ہین ان مین نیا طریقہ نکالنا ٹھیک نہین… جیسے نماز روزے کے نئے طریقے نکالنا ٹھیک نہین مگر صدقہ خیرات ذکر اذکار درود میلاد فاتحہ وغیرہ کے نئے پرانے سب طریقے جائز ہیں بشرطیکہ اسلام کے کسی اصول کے خلاف نا ہوں

سوال:آپ نے کہا میلاد کی اصل ثابت ہے تو قرآن و سنت سے وہ اصل دلائل پیش کیجئے؟

جواب:علماء کرام نے باقاعدہ میلاد پر کتابیں لکھی ہین اور قرآن و سنت سے کئ دلائل پیش کیے ہیں، یہاں تمام دلائل کا تذکرہ ممکن نہیں…چند دلائل پیش ہیں۔

دلیل01:

اپنے رب کی نعمت کا چرچا کرو..(سورہ والضحی آیت11)

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت ہین..(بخاری2/41)

میلاد میں اللہ کریم کی عظیم نعمت یعنی حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچہ ہی تو ہوتا ہے.

دلیل02:

کہہ دیجیے اللہ کے فضل و رحمت اور اسی پر خوشی کرنا چاہیے..(سورہ یونس آیت58)

میلاد میں اللہ کی عظیم رحمت اور اللہ کی عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے

دلیل:3

نبی پاک نے کئ بار ایک طریقے سے میلاد منایا…نبی پاک سے پیر کے دن روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی گئ تو آپ نے فرمایا

یہ دن میری ولادت کا دن ہے..(مسلم1/368)

یہ حدیث بے شمار کتابوں میں ہے۔

دلیل:4

اسی طرح صحابہ کرام نے بھی روزہ رکھ کر میلاد منایا ہے

دیکھیے ابو داود 1/331)

دلیل:5

نبی پاک کی ولادت پر عقیقہ ہوا تھا اس کے باوجود آپ نے دوبارہ اپنا عقیقہ کیا جو کہ میلاد کی دلیل ہے

دیکھیے سنن کبری 9/300 فتح الباری9/595)

دلیل:6

صحابہ کرام ایک دن محفل سجائے بیٹھے تھے اللہ کا ذکر کر رہے تھے حمد کر رہے تھے، نبی پاک کی آمد و بعثت کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اللہ یہ اللہ کا عظیم احسان ہے تو نبی پاک نے صحابہ کرام سے فرمایا اللہ فرشتوں سے تم پر فخر کر رہا ہے…(صحیح سنن نسائی حدیث5426) مسند احمد طبرانی وغیرہ کتب مین بھی یہ واقعہ درج ہے۔

اور بھی بہت دلائل علماء کرام نے کتابوں میں لکھے ہیں، عربی اردو میں میلاد پر کتابیں لکھی گئی ہیں، دو چار کتب تو ضرور پڑھنی چاہیے۔

از قلم:علامہ سعید احمد اشرفی غفرلہ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *